ميں قرآن ميں کہاں ہوں ؟ - MR Laboratory
Bài viết của MR Laboratory
K
MR Laboratory
Trang chủ
5

Liên hệ

  • facebook.com/mrlaboratory
  • admin@mrlaboratory.info
  • +841653009392

Loading...

Loading...
mrlaboratory
mrlaboratory.info
blogger template
blogger template
blogger template
blogger template
md mijanur rahaman
mrlaboratory1
mrlaboratory2
mrlaboratory3
mrlaboratory4
mrlaboratory5
mrlaboratory6
mrlaboratory7
mrlaboratory8
mrlaboratory9
mrlaboratory10
mrlaboratory11
mrlaboratory12
mrlaboratory13
mrlaboratory14
mrlaboratory15
mrlaboratory16
mrlaboratory17
mrlaboratory18
mrlaboratory19
mrlaboratory20
mrlaboratory21
mrlaboratory22
mrlaboratory23
mrlaboratory24
mrlaboratory25
mrlaboratory26
mrlaboratory27
mrlaboratory28
mrlaboratory29
mrlaboratory30
mrlaboratory31
mrlaboratory32
mrlaboratory33
mrlaboratory34
mrlaboratory35
mrlaboratory36
mrlaboratory37
mrlaboratory38
mrlaboratory39
mrlaboratory40
mrlaboratory41
mrlaboratory42
mrlaboratory43
mrlaboratory44
mrlaboratory45
mrlaboratory46
mrlaboratory47
mrlaboratory48
mrlaboratory49
mrlaboratory50
mrlaboratory51
mrlaboratory52
mrlaboratory53
mrlaboratory54
mrlaboratory55
mrlaboratory56
mrlaboratory57
mrlaboratory58
mrlaboratory59
mrlaboratory60
mrlaboratory61
mrlaboratory62
mrlaboratory63
mrlaboratory64
mrlaboratory65
mrlaboratory66
mrlaboratory67
mrlaboratory68
mrlaboratory69
mrlaboratory70
mrlaboratory71
mrlaboratory72
mrlaboratory73
mrlaboratory74
mrlaboratory75
mrlaboratory76
mrlaboratory77
mrlaboratory78
mrlaboratory79
mrlaboratory80
mrlaboratory81
mrlaboratory82
mrlaboratory83
mrlaboratory84
mrlaboratory85
mrlaboratory86
mrlaboratory87
mrlaboratory88
mrlaboratory89
mrlaboratory90
mrlaboratory91
mrlaboratory92
mrlaboratory93
mrlaboratory94
mrlaboratory95
mrlaboratory96
mrlaboratory97
mrlaboratory98
mrlaboratory99
mrlaboratory100
mrlaboratory101
mrlaboratory102
mrlaboratory103
mrlaboratory104
mrlaboratory105
mrlaboratory106
mrlaboratory107
mrlaboratory108
mrlaboratory109
mrlaboratory110
mrlaboratory111
mrlaboratory112
mrlaboratory113
mrlaboratory114
mrlaboratory115
mrlaboratory116
mrlaboratory117
mrlaboratory118
mrlaboratory119
mrlaboratory120
mrlaboratory121
mrlaboratory122
mrlaboratory123
mrlaboratory124
mrlaboratory125
mrlaboratory126
mrlaboratory127
mrlaboratory128
mrlaboratory129
mrlaboratory130
mrlaboratory131
mrlaboratory132
mrlaboratory133
mrlaboratory134
mrlaboratory135
mrlaboratory136
mrlaboratory137
mrlaboratory138
mrlaboratory139
mrlaboratory140
mrlaboratory141
mrlaboratory142
mrlaboratory143
mrlaboratory144
mrlaboratory145
mrlaboratory146
mrlaboratory147
mrlaboratory148
mrlaboratory149
mrlaboratory150
mrlaboratory151
mrlaboratory152
mrlaboratory153
mrlaboratory154
mrlaboratory155
mrlaboratory156
mrlaboratory157
mrlaboratory158
mrlaboratory159
mrlaboratory160
mrlaboratory161
mrlaboratory162
mrlaboratory163
mrlaboratory164
mrlaboratory165
mrlaboratory166
mrlaboratory167
mrlaboratory168
mrlaboratory169
mrlaboratory170
mrlaboratory171
mrlaboratory172
mrlaboratory173
mrlaboratory174
mrlaboratory175
mrlaboratory176
mrlaboratory177
mrlaboratory178
mrlaboratory179
mrlaboratory180
mrlaboratory181
mrlaboratory182
mrlaboratory183
mrlaboratory184
mrlaboratory185
mrlaboratory186
mrlaboratory187
mrlaboratory188
mrlaboratory189
mrlaboratory190
mrlaboratory191
mrlaboratory192
mrlaboratory193
mrlaboratory194
mrlaboratory195
mrlaboratory196
mrlaboratory197
mrlaboratory198
mrlaboratory199
mrlaboratory200

ميں قرآن ميں کہاں ہوں ؟

خود کو قرآن مجید میں ڈھونڈیں. انتہائی​ دلچسپ اور سبق آموز

ميں قرآن ميں کہاں ہوں ؟
-------
ایک جليل القدر تابعی اور عرب سردار احنف بن قيس ايک دن بيٹھے ہوئے تھے کہ کسی نے يہ آيت پڑھی

لَقَدْ أَنزَلْنَا إِلَيْكُمْ كِتَابًا فِيهِ ذِكْرُكُمْ أَفَلَا تَعْقِلُونَ (سورۃ انبياء 10)
(ترجمہ) ”ہم نے تمہاری طرف ايسی کتاب نازل کی جس ميں تمہارا تذکرہ ہے، کيا تم نہيں سمجھتے ہو“۔

وہ چونک پڑے اور کہا کہ ذرا قرآن مجيد تو لاؤ۔ اس ميں، ميں اپنا تذکرہ تلاش کروں، اور ديکھوں کہ ميں کن لوگوں کے ساتھ ہوں، اور کن سے مجھے مشابہت ہے؟

انہوں نے قرآن مجيد کھولا، کچھ لوگوں کے پاس سے ان کا گزر ہوا، جن کی تعريف يہ کی گئی تھی

كَانُوا قَلِيلًا مِّنَ اللَّيْلِ مَا يَهْجَعُونَ o وَبِالْأَسْحَارِ هُمْ يَسْتَغْفِرُونَ o وَفِي أَمْوَالِهِمْ حَقٌّ لِّلسَّائِلِ وَالْمَحْرُومِ ِ (الذريٰت-17،18،19)
(ترجمہ) ”رات کے تھوڑے حصے ميں سوتے تھے، اور اوقات سحر ميں بخشش مانگا کرتے تھے، اور ان کے مال ميں مانگنے والے اور نہ مانگنے والے (دونوں) کا حق ہوتا تھا“۔

کچھ اور لوگ نظر آئے جن کا حال يہ تھا،
تَتَجَافَى جُنُوبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ يَدْعُونَ رَبَّهُمْ خَوْفًا وَطَمَعًا وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنفِقُونَ (السجدہ۔ 16)
(ترجمہ) ”ان کے پہلو بچھونوں سے الگ رہتے ہيں (اور) وہ اپنے پروردگار کو خوف اور اُميد سے پکارتے ہيں۔ اور جو (مال) ہم نے ان کو ديا ہے، اس ميں سے خرچ کرتے ہيں“۔

کچھ اور لوگ نظر آئے جن کا حال يہ تھا،
وَالَّذِينَ يَبِيتُونَ لِرَبِّهِمْ سُجَّدًا وَقِيَامًا (الفرقان۔ 64)
(ترجمہ) ”اور جو اپنے پروردگار کے آگے سجدہ کرکے اور (عجز وادب سے) کھڑے رہ کر راتيں بسر کرتے ہيں“۔

اور کچھ لوگ نظر آئے جن کا تذکرہ اِن الفاظ ميں ہے،
الَّذِينَ يُنفِقُونَ فِي السَّرَّاء وَالضَّرَّاء وَالْكَاظِمِينَ الْغَيْظَ وَالْعَافِينَ عَنِ النَّاسِ وَاللّهُ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ (اٰل عمران۔ 134)
(ترجمہ) ”جو آسودگی اور تنگی ميں (اپنا مال خدا کي راہ ميں) خرچ کرتے ہيں، اور غصہ کو روکتے اور لوگوں کے قصور معاف کرتے ہيں، اور خدا نيکو کاروں کو دوست رکھتا ہے“۔


اور کچھ لوگ ملے جن کی حالت يہ تھی،
وَيُؤْثِرُونَ عَلَى أَنفُسِهِمْ وَلَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ وَمَن يُوقَ شُحَّ نَفْسِهِ فَأُوْلَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ (الحشر۔ 9)
(ترجمہ) ”(اور) دوسروں کو اپنی جانوں سے مقدم رکھتے ہيں خواہ ان کو خود احتياج ہی ہو، اور جو شخص حرص نفس سے بچا ليا گيا تو ايسے ہی لوگ مُراد پانے والے ہوتے ہيں“۔

اور کچھ لوگوں کی زيارت ہوئی جن کے اخلاق يہ تھے،
وَالَّذِينَ يَجْتَنِبُونَ كَبَائِرَ الْإِثْمِ وَالْفَوَاحِشَ وَإِذَا مَا غَضِبُوا هُمْ يَغْفِرُونَ (الشوريٰ۔ 37)
(ترجمہ) ”اور جو بڑے بڑے گناہوں اور بے حيائی کی باتوں سے پرہيز کرتے ہيں، اور جب غصہ آتا ہے تو معاف کر ديتے ہيں“۔
اور کچھ کا ذکر یوں تھا،
وَالَّذِينَ اسْتَجَابُوا لِرَبِّهِمْ وَأَقَامُوا الصَّلَاةَ وَأَمْرُهُمْ شُورَى بَيْنَهُمْ وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنفِقُونَ (الشوريٰ۔ 38)
(ترجمہ) ”اور جو اپنے پروردگار کا فرمان قبول کرتے ہيں اور نماز پڑھتے ہيں، اور اپنے کام آپس کے مشورہ سے کرتے ہيں اور جو مال ہم نے ان کو عطا فرمايا ہے اس ميں سے خرچ کرتے ہيں“۔

وہ يہاں پہنچ کر ٹھٹک کر رہ گئے، اور کہا : اے اللہ ميں اپنے حال سے واقف ہوں، ميں تو ان لوگوں ميں کہیں نظر نہيں آتا!

پھر انہوں نے ايک دوسرا راستہ ليا، اب ان کو کچھ لوگ نظر آئے، جن کا حال يہ تھا،

إِنَّهُمْ كَانُوا إِذَا قِيلَ لَهُمْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ يَسْتَكْبِرُونَ o وَيَقُولُونَ أَئِنَّا لَتَارِكُوا آلِهَتِنَا لِشَاعِرٍ مَّجْنُونٍ (سورہ صافات۔ 35،36)
(ترجمہ) ”ان کا يہ حال تھا کہ جب ان سے کہا جاتا تھا کہ خدا کے سوا کوئي معبود نہيں تو غرور کرتے تھے، اور کہتے تھے، کہ بھلا ہم ايک ديوانہ شاعر کے کہنے سے کہيں اپنے معبودوں کو چھوڑ دينے والے ہيں؟

پھر اُن لوگوں کا سامنا ہوا جن کی حالت يہ تھی،
وَإِذَا ذُكِرَ اللَّهُ وَحْدَهُ اشْمَأَزَّتْ قُلُوبُ الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِالْآخِرَةِ وَإِذَا ذُكِرَ الَّذِينَ مِن دُونِهِ إِذَا هُمْ يَسْتَبْشِرُونَ (الزمر۔45)
(ترجمہ) ”اور جب تنہا خدا کا ذکر کيا جاتا ہے تو جو لوگ آخرت پر ايمان نہيں رکھتے انکے دل منقبض ہو جاتے ہيں، اور جب اس کے سوا اوروں کا ذکر کيا جاتا ہے تو اُن کے چہرے کھل اُٹھتے ہيں“۔

کچھ اور لوگوں کے پاس سے گزر ہوا جن سے جب پوچھا گيا،
مَا سَلَكَكُمْ فِي سَقَرَ o قَالُوا لَمْ نَكُ مِنَ الْمُصَلِّينَ o وَلَمْ نَكُ نُطْعِمُ الْمِسْكِينَ o وَكُنَّا نَخُوضُ مَعَ الْخَائِضِينَ oوَكُنَّا نُكَذِّبُ بِيَوْمِ الدِّينِ o حَتَّى أَتَانَا الْيَقِينُ (المدثر۔ 47-42)
(ترجمہ) ”کہ تم دوزخ ميں کيوں پڑے؟ وہ جواب ديں گے کہ ہم نماز نہيں پڑھتے تھے اور نہ فقيروں کو کھانا کھلاتے تھے اور ہم جھوٹ سچ باتيں بنانے والوں کے ساتھ باتيں بنايا کرتے اور روز جزا کو جھوٹ قرار ديتے تھے، يہاں تک کہ ہميں اس يقيني چيز سے سابقہ پيش آگيا“۔

يہاں بھی پہنچ کر وہ تھوڑی دير کے لئے دم بخود کھڑے رہے۔ پھر کانوں پر ہاتھ رکھ کر کہا: اے اللہ! ان لوگوں سے تيری پناہ! ميں ان لوگوں سےبری ہوں۔

اب وہ قرآن مجيد کے اوراق کو ا لٹ رہے تھے، اور اپنا تذکرہ تلاش کر رہے تھے، يہاں تک کہ اس آيت پر جا کر ٹھہرے:
وَآخَرُونَ اعْتَرَفُواْ بِذُنُوبِهِمْ خَلَطُواْ عَمَلاً صَالِحًا وَآخَرَ سَيِّئًا عَسَى اللّهُ أَن يَتُوبَ عَلَيْهِمْ إِنَّ اللّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ (التوبہ۔ 102)
(ترجمہ) ”اور کچھ اور لوگ ہيں جن کو اپنے گناہوں کا (صاف) اقرار ہے، انہوں نے اچھے اور برے عملوں کو ملا جلا ديا تھا قريب ہے کہ خدا ان پرمہربانی سے توجہ فرمائے، بے شک خدا بخشنے والا مہربان ہے“۔

اس موقع پر اُن کی زبان سے بے ساختہ نکلا، ہاں ہاں! يہ بے شک ميرا حال ہے !!

تو ہم کن لوگوں میں سے ہیں..؟؟؟
سوچئے گا !!

آپ کو یہ تحریر اچھی لگی ہے تو کمنٹ میں ہماری حوصلہ افزائی ضرور کریں، اگر آپ کے پاس کوئی اچھی اخلاق سے بھری کوئی کہانی یا تحریر ہے تو ہمیں اپنے اور شہر کے نام کے ساتھ بھیجیں۔ شکریہ

Thích
You and others

کوئی تبصرے نہیں:



:)
=)
:(
:D
:v
;)
^_^
:((
(y)
<3

آپ کی دوستانہ گفتگو اورکچھ بہترین آراء میری حاصلہ افزائی کرنے میں اہم کردار ادا کرے گی :-)اس پوسٹ کے متعلق مجھے آپ کی سوچ سن کر اچھا لگے گا!
کومنٹس کرنے کے بعد اس پوسٹ پر دوبارہ چیک کرنا یقینی بنائیں کیونکہ میں یہاں آپ کے کومنٹس کا جواب دینے کی پوری کوشش کرونگا

قدیم تر اشاعت:

جدید تر اشاعت:

MR Laboratory
-->